ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل: سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے مرکزی ٹیم کی بھٹکل آمد: ریاست بھر میں 7600کروڑروپیوں کا نقصان

بھٹکل: سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے مرکزی ٹیم کی بھٹکل آمد: ریاست بھر میں 7600کروڑروپیوں کا نقصان

Fri, 09 Sep 2022 20:27:45    S.O. News Service

بھٹکل:9؍ ستمبر(ایس اؤ نیوز)بھٹکل تعلقہ میں بادل پھٹ پڑنے سے پچھلے  ماہ  یکم  اگست  کو  سیلاب اور چٹان کھسکنے سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لینے کےلئے مرکزی اندرونی وزارت کے سنئیر آفیسران کی ٹیم نے جائے وارداتوں کا دورہ کرتےہوئے معائنہ کیا۔

پڑوسی اضلاع دکشن کنڑا اوراُڈپی کا معائنہ کرنے کے بعد جمعرات کی دوپہر 3بجے بھٹکل پہنچی آفیسران کی معائنہ ٹیم نے چٹان کھسکے  مٹھلی  ، مٹھلی بائی پاس، چوتھنی ، سارداہولے، شرالی ، بینگرے سمیت مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتےہوئے جانکاری حاصل کی۔ اترکنڑا ڈی سی ملئی مہیلن نے ریاستی آفاقی حادثات روک تھام شعبہ کے کمشنر ڈاکٹر منوج راجن کو سیلاب سےہوئے نقصانات کی تفصیلات سونپی اور وڈیو کلپ وغیرہ حالات کو پیش کیا۔

اپنے معائنہ کے بعد اخبارنویسوں سےبات کرتےہوئے ڈاکٹر منوج راجن نےبتایا کہ جولائی اور اگست میں ہونے والی بارش سے ریاست بھر میں 7600کروڑروپیوں کانقصان ہواہے جس میں زرعی زمین، گھر، جانی و مالی نقصان شامل ہے۔ لیکن معاوضہ اصولوں کے مطابق 1300کروڑروپیوں کے نقصان کا اندراج ہواہے۔ اضافی معاوضے کےلئے ضلعی لیول پر جانکاری حاصل کرتےہوئے مرکز کو رپورٹ سونپی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی اندرونی وزارت کے 7افسران ریاست کے دورےپر ہیں ان کی قیادت میں تین ٹیموں کو تشکیل دیاگیا ہے جو اس ریاست کے الگ الگ اضلاع کا دورے کرتےہوئے معائنہ کررہی ہیں  ۔ سنئیر آئی اے ایس آفیسر آشیش  کی قیادت میں محکمہ خزانہ کے سنئیر آفیسر مہیش کمار، ایندھن محکمہ کے معاون ڈائرکٹر بھاوییا  پانڈے پر مشتمل ٹیم بھٹکل دورےپر ہے۔

جہاں تک چٹان کھسکنے کا معاملہ ہے اس تعلق سے محکمہ اراضی سائنس اور امرت یونیورسٹی مطالعہ کررہی ہے۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد حکومت کی سطح پر اگلے اقدامات کئے جائیں گے۔ جانی و مالی خسارے ، گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے متعلق وزیر اعلیٰ نے زائد معاوضے کے لئے کارروائی کی ہے اور اس سلسلے میں مرکز سے مدد مانگی گئی ہے۔ اس موقع پر بھٹکل کی اسسٹنٹ کمشنر ممتا دیوی ، تحصیلدار ڈاکٹر سمنت ، تعلقہ پنچایت آفیسر پربھاکر چکنمنے وغیرہ موجود تھے۔


Share: